19 جون 2012 - 19:30

صہیونی ریاست نےمصرسےملحق مقبوضہ فلسطین کی سرحدپراپنےجنگ پسندانہ اقدامات تیزکردیئےہيں ۔

ابنا: اس سلسلےمیں موصولہ رپورٹوں سےپتہ چلتاہےکہ صہیونی ریاست نےپیرکےدن مصرسےملحق مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر بھاری جنگی سازوسامان اور ٹینک تعینات کردیئےہيں ۔


مصرسےملحق سرحدی علاقوں میں صہیونی ریاست کی جنگی تیاریوں سےیہ حقیقت آشکارہوئی ہےکہ اس قابض صیہونی حکومت کی ماہیت دھمکیوں اورجنگ افروزی پراستوار ہے۔

مصرسےملحق مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر گذشتہ مہینوں غاصب صہیونی ریاست کی جنگ کی آگ بھڑکانےکی کوششیں اورباربار کےجارحانہ اقدامات درحقیقت ان معاہدوں کی خلاف ورزی شمارہوتےہيں جواس حکومت نےانیس سواناسی میں کیمپ ڈیویڈمعاہدےکی شکل میں کئےہیں اورجن پراس وقت کے مصری حکام نےدستخط کئےہیں۔

مصرکےساتھ اسرائیل کےنام نہاد امن منصوبے کےمعاہدےکی بنیاد پر مصرسےملحق سرحد پر صہیونی ریاست کی جانب سےتوپ اورٹینک تعینات کرنا ممنوع ہے اورمصرومقبوضہ فلسطین کاسرحدی علاقہ ہتھیاروں سےعاری ہوناچاہئے اورہرطرح کےٹینکوں، ٹینک شکن میزائلوں اورہرطرح کےبھاری ہتھیاروں کی تعیناتی ممنوع ہے۔

صہیونی ریاست کےاقدامات سےپتہ چلتاہےکہ صہیونی ریاست کسی طرح کےمعاہدےکی پابندنہيں ہے اور عرب فریقوں کےساتھ کئےجانےوالےمعاہدوں کوایک طرح کاہتھکنڈہ اور اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کوآگےبڑھانےکاموقع سمجھتی ہے۔

صہیونی ریاست کی بڑھتی ہوئی توسیع پسندانہ پالیسیوں کےبا‏عث یہ حکومت عرب فریقوں کےساتھ ان معاہدوں کی پابندی سےبھی جان چھڑانا چاہتی ہے جو پوری طرح اس کےمفاد میں تیارکئےگئےہيں اور عرب ممالک میں اپنےتوسیع پسندانہ اقدامات کےدرپےہے۔

اس بناپر علاقےکی رائےعامہ صہیونی ریاست کےساتھ تمام معاہدوں کوباعث ننگ وعارسمجھتی ہے اورانھیں منسوخ کئےجانےکی خواہاں ہے جوصیہونی حکومت نےعرب فریق کےساتھ کئےہيں کیونکہ ان معاہدوں کاعلاقےکی قوموں کےلئےمنفی نتائج کےسواکوئی نتیجہ نہيں نکلا ہے۔

عرب ممالک میں جاری عوامی تحریکوں کہ جس کا سرچشمہ علاقےکی اسلامی بیداری تحریک ہے، جس کا واضح پیغام علاقےکی قوموں میں صیہونیت مخالفت رجحانات ہیں جو صہیونی ریاست کےخلاف ٹھوس اقدامات کامطالبہ کرتےہیں اوراس غاصب حکومت کےساتھ ہونےوالےمعاہدوں کی منسوخی چاہتے ہیں اوراس طرح کی صورت حال مصرکی عوامی تحریک میں نمایاں طورپردیکھی جاسکتی ہے۔

یہ تبدیلیاں جنھوں نےعلاقےمیں صیہونی حکومت کوپہلےسےزیادہ یکہ وتنہا کردیاہے صیہونی حکام کوسخت تشویش میں مبتلاکردیاہے۔

اس بنا پر صہیونی ریاست فوجی دھمکیوں میں اضافہ کرکے اورخوف وحشت کاماحول پیداکرکے مصرکےانقلابی عوام کومصرکےمعزول ڈکٹیٹر کی پالیسیوں پرکہ جو صہیونی ریاست  کےساتھ بڑےپیمانےپرتعلقات پرمبنی تھی ، ہرطرح کی نظرثانی سےروکنےکی کوشش کررہی ہے۔

لیکن مصری عوام کی تحریک کاعمل اور صہیونی ریاست کےساتھ تعلقات ختم کرنےنیزفلسطینی عوام کی حمایت کی ضرورت سمیت انقلابیوں کےتمام مقاصد کوعملی جامہ پہنانےپرتاکید ملت مصرمیں صیہونیت مخالف شدیدجذبات کی عکاسی کررہی ہے۔

ان حالات ميں مصری عوام کےخلاف صہیونی ریاست کی دھمکیاں اورفوجی اقدامات ،اس توسیع پسند حکومت سےکہ جس کی نگاہیں ہمیشہ مصری سرزمین پررہی ہیں ، صرف نفرت میں اضافےکاباعث بنےگے۔
....... 
/169